خشک و تر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - برابھلا سبھی کچھ، رطب و یاس، ہر چیز۔ "اہل اخبار خشک و تر جو کچھ مل جائے اس کے چھاپ دینے کی قسم کھائے ہوئے ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی مجنوں، ٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خشک' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد فارسی صفت 'تر' لگانے سے مرکب 'خشک و تر' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برابھلا سبھی کچھ، رطب و یاس، ہر چیز۔ "اہل اخبار خشک و تر جو کچھ مل جائے اس کے چھاپ دینے کی قسم کھائے ہوئے ہیں۔"      ( ١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی مجنوں، ٤ )

جنس: مذکر